ا یٹانگر،9 ؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )اروناچل پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اورکانگریس کے باغی کلیکھو پل نے آج مبینہ طور پر خود کشی کر لی۔گزشتہ مہینہ سپریم کورٹ کی جانب سے پل کی حکومت کو ہٹائے جانے کا حکم دئیے جانے کے بعد ان کو وزیر اعلی کی کرسی چھوڑ نی پڑی تھی ۔پل کی موت کی خبر پھیلتے ہی ان کے حامیوں نے موجودہ وزیراعلیٰ پیما کھانڈو کے نیتی وہار علاقے میں واقع بنگلے کا گھیراؤ کیا۔حامیوں نے پل کی غیر فطری موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے نائب وزیراعلیٰ کی ایک زیرِ تعمیرعمارت کو آگ لگا دی اور دو سرکاری بنگلوں کوبھی نقصان پہنچایا۔پولیس کے ایک اعلیٰ افسرنے کہا کہ47سالہ پل نے اپنے بیڈروم میں پنکھے سے پھانسی لگا لی تھی۔پل کی تین بیویوں میں سے ایک بیوی نے سرکاری رہائش گاہ میں ان لٹکا ہوا پایا۔انہوں نے ابھی سرکاری رہائش گاہ خالی نہیں کی تھی ۔ڈاکٹروں کے مطابق موت صبح سات سے ساڑھے سات بجے کے درمیان ہوئی ہے۔پل کے خاندان کے مطابق انہوں نے گزشتہ سات دنوں سے کسی باہری شخص سے ملاقات نہیں کی تھی ۔پل کی تین بیویاں اور چار بچے ہیں۔پل نبام تکی کی جگہ پراس سال19؍فروری کووزیراعلیٰ بنے تھے، وہ اس عہدے پرگزشتہ جولائی تک رہے۔پل کی موت کی خبرپھیلنے کے کچھ ہی وقت بعد ان کے حامیوں نے وزیراعلیٰ پیما کھانڈو کے بنگلے کا گھیراؤ کیا۔حامیوں نے کہا کہ وہ پل کے جسد خاکی کو ان کے ای ایس ایس سیکٹر میں واقع بنگلے سے باہرنہیں لے جانے دیں گے۔حامیوں نے پل کی آخری رسومات کی ادائیگی پریسر کے اندر ہی کرنے کا مطالبہ کیا ۔